اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق فارمولا 1 کار ریلی کے دوران ایک انقلابی راہنما کی شہادت نے آل خلیفہ کی عالمی رسوائی کا سبب بن گئی ہے اور عالمی رائے عامہ کو یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ جس ملک میں ہر روز شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے وہاں عالمی کار ریلی کا انعقاد قاتل حکمرانوں کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟
آل خلیفہ نے امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور عالمی رائے عامہ کو یہ جتانے کے لئے ـ کہ اس ملک میں کوئی انقلابی سرگرمی دیکھنے کو نہيں ملتی اور حالات پر سکون ہیں ـ فارمولا 1 کار ریلی کے انعقاد کا اہتمام کیا ہے جبکہ بحرین کے مظلوم عوام نے بھی اس موقع پر اپنی ریلیوں اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ غیر معمولی اہتمام کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے اور اگر ایک طرف سے فارمولا ون کار ریلیاں منعقد ہورہی ہیں تو دوسری طرف سے کار ریلی کو کوریج دینے کے لئے آنے والے نامہ نگاروں کی توجہ عوامی احتجاج کی طرف مبذول ہوئی ہے اور کار ریلی میں شرکت کرنے یا مقابلے دیکھنے کے لئے آنے والے کئی مغربی شہریوں نے بھی عوامی مظاہروں میں شرکت کو کار ریلی پر ترجیح دی ہے۔
بحرین کے انقلابی اور بیدار عوام نے دنیا والوں کو بتا دیا ہے کہ اس ملک میں امن و امان کے خلیفی دعوے جھوٹے ہیں اور پھر آل خلیفہ کے جلادوں نے ایک سیاسی اور انقلابی راہنما کو اغوا کرکے شہید کردیا ہے اور یوں آل خلیفہ کی جرائم پیشہ فطرت کو چھپانے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور کار ریلی میں شرکت کرنے والے بھی جان گئے ہیں کہ جس ملک میں وہ ایک تفریحی مقابلہ منعقد کرنے کے لئے آئے ہیں وہاں کے حکمرانوں کی تفریح عوام کے خون سے ہولی کھیلنے اور اکثریت کی آواز دبانے سے عبارت ہے۔
ذیل میں آنے والی رپورٹیں ان واقعات سے متعلق ہیں جو انقلاب کرامت کے 434 ویں روز یعنی اتوار 22 اپریل کو بحرین میں رونما ہوئے ہیں
ــ بحرین: انقلاب کرامت کے چھیاسی ویں شہید
بحرین میں عوام کے انقلاب پر پردہ ڈالنے کے لئے ہونے والی فارمولا ون کار ریلی کے موقع پر آل خلیفہ کے مسلح جلادوں نے ایک انقلابی نوجوان کو شارٹ گن کی فائرنگ کرکے شہید کردیا۔
اطلاعات کے مطابق آل سعود کے کرائے کے فوجیوں کے حمایت یافتہ آل خلیفہ کے بیرونی گماشتوں نے گذشتہ دو دنوں کے دوران ان علاقوں میں عوام کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے جہاں فارمولا 1 کار ریلی کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ آل خلیفہ کے گماشتے زہریلی گیس اور ممنوعہ ہتھیاروں کا بے تحاشا استعمال کررہے ہيں۔
ابوصیبع نامی قصبے میں کل آل خلیفہ کے گماشتوں نے مظاہرین پر گولی چلائی جس میں "الشاخورہ" کے رہائشی اور انقلاب 14 فروری کے رکن نوجوان انقلابی راہنما "صلاح عباس حبیب آل موسی" گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگئے۔
اس رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے گماشتوں نے اس کے بعد الشاخورہ میں شہید کے گھر کا محاصرہ کرلیا تا کہ ان کے اہل خانہ باہر آکر کوئی ایسا اقدام نہ کرسکیں جس سے کار ریلی کے شرکاء کو بحرین کی صورت حال سمجھنے میں مدد ملے۔
ادھر 14 فروری انقلابی اتحاد نے اپنے بیان میں شہید صلاح حبیب کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے گماشتوں نے انہيں اغوا کرلیا تھا اور انہیں غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آل خلیفہ کے گماشتوں نے آخر کا انہيں گولی مار کر شہید کردیا۔
14 فروری انقلابی اتحاد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شہید صلاح حبیب کے جلوس جنازہ میں بھرپور شرکت کرنے کے لئے تیار رہیں۔
14 فروری انقلابی اتحاد کے بیان کے مطابق شہید صلاح حبیب اپنے 5 ساتھیوں کے ہمراہ پولیس کے تعاقب سے بچنے کے لئے دارالحکومت منامہ کے نواح میں ایک فارم میں جاکر روپوش ہوگئے تھے اور آل خلیفہ نے ان کے ٹھکانے کا سراغ لگانے کے بعد انہیں گرفتار کرکے اسرائیلوں کے طرز پر توڑ دیں اور صلاح حبیب کو گولی مار کر شہید کردیا۔
صلاح حبیب کی شہادت کے ساتھ ہی انقلاب کے انقلاب کرامت کے شہیدوں کی تعداد 86 ہوگئی ہے۔
ــ بحرین: نوجوان انقلابی راہنما کی شہادت نے آل خلیفہ کو رسوا کردیا
بحرین کی قومی ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے انقلابی اور سیاسی راہنماؤں کو قتل کرنے کے آل خلیفہ کے منصوبے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت دعوی کررہی تھی کہ بحرین کے حالات پرسکون ہيں لیکن صلاح عباس حبیب آل موسی کی شہادت نے اس حکومت کو رسوا کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فاضل عباس نے کہا: آل خلیفہ حکومت ایک عرصے سے اپوزیشن راہنماؤں کے قتل کا ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اس سے قبل خلیفی حکومت نے "عباس الشيخ" کو السترہ میں اور صحافت کی دنیا میں انقلاب بحرین کے فعال راہنما "احمد اسمعیل" کو سلماباد میں قتل کیا۔
انھوں نے کہا: شہید صلاح عباس حبیب نے متعدد بار خلیفی حکومت کے خلاف پر امن مظاہروں کی قیادت کی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت مشہور ہوچکے تھے چنانچہ آل خلیفہ حکومت نے ریاستی دہشت گردی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کو قاتلانہ حملے میں شہید کردیا۔
انھوں نے کہا آل خلیفہ حکومت نے ابتدائے انقلاب ہی سے انقلاب بحرین کا جواب گولی اور تشدد فوجی قوت استعمال کرکے دیا ہے اور آل خلیفہ کے گماشتے ایک عرصے سے بحرین کے مختلف شہروں میں انقلابی راہنماؤں پر قاتلانہ حملے کررہے ہيں۔
فاضل عباس نے کہا کہ بحرین کی سیاسی جماعتیں کسی صورت میں بھی شہداء کا خون رائگاں نہيں جانے دیں گی اور وہ دن ضرور آئے گا جب ہم عوام کے قاتلوں کو ان کے انسانیت کش جرائم کی بنا پر کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
سیکریٹری جنرل قومی ڈیموکریٹک پارٹی نے کہا: آل خلیفہ نے بحرین کی انقلابی فضا کو الٹ پلٹ کر دکھانے فارمولا ون کار ریس کا اہتمام کیا ہے اور وہ دنیا کو جتانا چاہتا ہے کہ گویا بحرین میں سب ٹھیک ہے اور حالات پرسکون ہیں اور اس ملک میں کوئی واقعہ رونما نہيں ہورہا لیکن صلاح عباس حبیب آل موسی کی شہادت نے ثابت کردیا کہ خلیفی حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔
انھوں نے کہا: کار ریس کو کوریج دینے والے بیرونی نامہ نگار عوامی ریلی کے بعد بحرین میں رونما ہونے والے واقعات کے میڈیا بائیکاٹ سے حیرت زدہ ہوگئے اور انہيں معلوم ہوا کہ بحرین پر مسلط مطلق العنان حکمران کس طرح عوام کو کچل رہے ہیں۔
"صلاح عباس حبیب آل موسی" 14 فروری انقلابی اتحاد کے رکن تھے جنہيں جمعہ کے روز آل خلیفہ کے گماشتے اغوا کرکے لے گئے ان پر تشدد کیا اور آخر کار ان کو گولی مار کر شہید کردیا۔
ــ بحرینی شہید کا جنازہ فارمولا ون کار ریس کے بعد اٹھے گا
شہید صلاح عباس آل موسی کے ایک قریبی رشتہ دار نے کہا: آل خلیفہ حکومت نے شہید کی میت ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارمولا ون کے خاتمے کے بعد میت ان کے اہل خانہ کے حوالے کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق صلاح عباس حبیب آل موسی، جمعہ کے پرامن احتجاج کے دوران آل خلیفہ کے گماشتوں کے ہاتھوں اغوا اور تشدد کے بعد گولی لگنے سے شہید ہوگئے تھے اور ان کے اہل خانہ نے حکومت سے ان کی میت حوالے کرنے کی درخواست کی تو اٹارنی جنرل کے دفتر کے اہلکاروں نے اہل خانہ سے کہا کہ ملک میں فارمولا ون کے مقابلے ہورہے ہيں اور پوسٹ مارٹم کے لئے کوئی ڈاکٹر دستیاب نہیں ہے (!) لہذا یہ کاروائی کار ریس کے مقابلوں کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
یاد رہے کہ جمعہ کے روز ہونے والی ریلی فارمولا ون پر احتجاج کی غرض سے ہوا تھا۔ اور صلاح آل موسی کو اسی دوران گولی مارکر شہید کیا گیا اور 14 فروری انقلابی اتحاد نے عوام سے اپیل کی کہ شہی